ردیف
ردیف کا لفظی معنی 'گھوڑے پر کسی کے پیچھے سوار ہونے والا' ہے۔
تعریف: غزل یا نظم میں قافیہ کے بعد ایک یا ایک سے زیادہ آنے والے وہ الفاظ جو شعر کے آخر میں بار بار دہرائے جائیں، 'ردیف' کہلاتے ہیں۔
قدیم عربی شاعری میں ردیف کا استعمال ناپید تھا۔ اس لحاظ سے یہ ایرانی شعرا کی ایجاد معلوم ہوتی ہے، جس سے شعر میں موسیقیت پیدا ہوتی ہے۔
مردف اور غیر مردف:
جس شعر میں ردیف نہ ہو، اسے 'غیر مردف' کہتے ہیں، اور جس شعر میں ردیف موجود ہو، اسے 'مردف' کہتے ہیں۔
ردیف اور قافیہ میں فرق:
ردیف کے الفاظ تبدیل نہیں ہوتے بلکہ مستقل رہتے ہیں، جب کہ قافیہ کے لیے الفاظ کی یہ قید نہیں ہے — ہر شعر میں قافیہ بدلتا رہتا ہے مگر ردیف وہی رہتی ہے۔
مثال:
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
وضاحت: اس شعر میں 'نہیں آتی' ردیف ہے کیونکہ یہ دونوں مصرعوں کے آخر میں بغیر کسی تبدیلی کے دہرائی گئی ہے، جبکہ 'امید' اور 'صورت بر/نظر' قافیہ ہیں۔
کیوں اہم ہے: ردیف شعر کے لیے لازمی نہیں، غزل بغیر ردیف کے بھی لکھی جا سکتی ہے، مگر قافیہ کے بغیر نہیں۔ ردیف شعر میں تال اور موسیقیت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔