مقطع
تعریف: مقطع کے لفظی معنی 'کاٹنا' یا 'کسی چیز کے کٹ کر ختم ہونے کی جگہ' کے ہیں۔
شاعری کی اصطلاح میں غزل اور قصیدے کا آخری شعر، جس میں شاعر اپنا تخلص لاتا ہے، 'مقطع' کہلاتا ہے۔
مثال (میرؔ کی غزل کا مقطع):
میرؔ ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے
وضاحت: اس شعر میں شاعر نے اپنا تخلص 'میرؔ' استعمال کیا ہے، اس لیے یہ شعر مقطع کہلائے گا۔
اہم اصول:
اگر کسی غزل کے آخری شعر میں شاعر نے اپنا تخلص استعمال نہ کیا ہو تو اُس غزل کا آخری شعر ہونے کے باوجود اُسے مقطع نہیں کہا جائے گا۔
اسی طرح اگر کسی غزل کے کسی درمیانی شعر میں شاعر نے اپنا تخلص استعمال کیا ہو مگر وہ شعر غزل کا آخری شعر نہ ہو تو وہ شعر مقطع نہیں کہلائے گا، بلکہ صرف آخری شعر کہلائے گا (چاہے اُس میں تخلص نہ ہو)۔
کیوں اہم ہے: مقطع شاعر کی پہچان اور غزل کے اختتام کی نشانی ہوتا ہے، اسی لیے اسے سمجھنا غزل کی ساخت جاننے کے لیے ضروری ہے۔