تلمیح
تعریف: تلمیح کا لغوی معنی 'اشارہ کرنا' یا 'اچٹتی نگاہ ڈالنا' ہے۔
ادبی اصطلاح میں شاعر اپنے کلام میں یا نثر نگار اپنی نثر میں کسی مشہور بات، روایت، واقعہ، قصہ، شخص، جگہ، حدیثِ نبویﷺ یا قرآنی آیت کی طرف اشارہ کرے تو اسے تلمیح کرنا کہلاتا ہے۔
شعری مثال:
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
وضاحت: اس شعر میں 'آتشِ نمرود' تلمیح ہے۔ یہ اشارہ ہے اُس آگ کے الاؤ کی طرف جو نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کے لیے تیار کروایا تھا۔ شاعر عشق کو اس آگ میں بلاخوف کود پڑنے والا اور عقل کو دور کھڑے تماشا دیکھنے والی سے تشبیہ دیتا ہے۔
کیوں اہم ہے: تلمیح شاعر کو ایک لفظ یا مصرعے میں پورا واقعہ یا تاریخی حوالہ بیان کرنے کی صلاحیت دیتی ہے، جس سے کلام میں گہرائی اور معنویت پیدا ہوتی ہے۔ تلمیح کو سمجھنے کے لیے متعلقہ واقعے یا روایت سے واقفیت ضروری ہے۔