استعارہ
تعریف: استعارہ کا لغوی معنی 'ادھار لینا' ہے۔
علمِ بیان کی رو سے جب کسی لفظ کو اس کے حقیقی معنوں کی بجائے مجازی معنوں میں اس طرح استعمال کیا جائے کہ اس کے حقیقی اور مجازی معنوں میں تشبیہ کا تعلق موجود ہو تو اسے استعارہ کہتے ہیں۔
نثری مثالیں:
1۔ دیکھو! میرا چاند آ گیا۔ (بیٹے کے لیے 'چاند' کا لفظ استعارہ کے طور پر استعمال ہوا ہے)
2۔ میرا بھائی شیر ہے۔ (بھائی کی بہادری کے لیے 'شیر' کا لفظ استعارہ کے طور پر استعمال ہوا ہے)
3۔ تم مور ہو۔ (محبوب کے لیے 'مور' کا لفظ استعارہ کے طور پر استعمال ہوا ہے)
وضاحت: استعارے میں دراصل تشبیہ ہی پوشیدہ ہوتی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ تشبیہ میں مشبہ اور مشبہ بہ دونوں کا ذکر ہوتا ہے (جیسے 'وہ چاند کی طرح ہے')، جبکہ استعارے میں صرف مشبہ بہ (یعنی جس چیز سے تشبیہ دی جا رہی ہے) کا ذکر کیا جاتا ہے اور اصل چیز کو براہِ راست وہی نام دے دیا جاتا ہے، جیسے 'میرا چاند آ گیا' میں براہِ راست بچے کو چاند کہہ دیا گیا۔
کیوں اہم ہے: استعارہ کلام کو مختصر مگر پرتاثیر بناتا ہے اور شاعری میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی صنعتوں میں سے ایک ہے۔